خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر اپنی ہی تین سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ بچی تمنا کی لاش ایک ملزم کی نشاندہی پر امان کوٹ کے پہاڑی علاقے سے برآمد کی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اس افسوسناک واردات میں بچی کی اپنی ماں بھی ملوث تھی، جس نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر یہ جرم کیا۔
ایس پی کے مطابق گرفتار ملزمان دیگر جرائم میں بھی ملوث رہے ہیں، جن میں موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں شامل ہیں۔ پولیس نے کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 14 چوری شدہ موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی ہیں، جو ان کے جرائم کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان تک رسائی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ممکن ہوئی، جس کے ذریعے ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے اور مختلف پہلوؤں سے کیس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملزمان کے دیگر ممکنہ جرائم کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔