Baaghi TV


محفوظ فیصلے 90 دن میں سنانا لازم، تاخیر قانون کی خلاف ورزی قرار

‎وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے طویل عرصے تک فیصلے محفوظ رکھنا اور مقررہ مدت میں نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہوں گی، بصورت دیگر ایسے فیصلے کالعدم بھی قرار دیے جا سکتے ہیں۔
‎جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے قواعد و ضوابط قانونی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کی خلاف ورزی کے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عدالت نے فیصلے کی نقول عملدرآمد کے لیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔
‎فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عدالتی فیصلوں کا قبل از وقت لیک ہونا قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگر کسی کیس میں ایسا ہوتا ہے تو بینچ کا سربراہ ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، اور یہ سماعت وہی بینچ یا کوئی دوسرا بینچ بھی کر سکتا ہے۔
‎عدالت کے مطابق اگر ہائی کورٹ میں اس نوعیت کا معاملہ سامنے آئے تو اسے متعلقہ چیف جسٹس کے نوٹس میں لایا جائے گا، جبکہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔
‎فیصلے میں کہا گیا کہ زیر التواء مقدمات کے بوجھ کے باوجود بروقت انصاف کی فراہمی ضروری ہے، کیونکہ تاخیر سے فریقین طویل عرصے تک اپنے حقوق کے حصول کے لیے انتظار کرتے رہتے ہیں۔
‎عدالت نے نشاندہی کی کہ بعض کیسز میں قانونی پیچیدگی یا ججز کے درمیان اختلاف کی وجہ سے فیصلے محفوظ کیے جاتے ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر ضروری تاخیر کی جائے۔

More posts