Baaghi TV

ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: ڈاکٹر مریم خالد

10 مئی 2025 جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور پاکستان کو ایک نازک صورتحال کا سامنا تھا۔ ایسے وقت میں پوری قوم نے جس اتحاد، یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” کی حقیقی تصویر تھا۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وہ جذبہ ہے جو کسی بھی قوم کو آزمائش کی گھڑی میں ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔

“بنیانِ مرصوص” ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ ایسی مضبوط دیوار جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے اس طرح جڑی ہو کہ کوئی طاقت اسے کمزور نہ کر سکے۔ 10 مئی کے حالات نے ثابت کیا کہ جب قوم متحد ہو، جب ہر فرد اپنے ذاتی اختلافات بھلا کر قومی مفاد کو ترجیح دے، تو وہ ایک مضبوط دیوار کی مانند ہر چیلنج کے سامنے ڈٹ سکتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معرکے صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتے جاتے بلکہ قوموں کے حوصلے، اتحاد اور نظریاتی قوت فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ مئی 2025 کی کشیدہ فضا میں پاکستانی قوم نے جس صبر، استقامت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ قوم آزمائش کے وقت بکھرتی نہیں بلکہ مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

اس موقع پر سب سے قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ قوم کے مختلف طبقات—طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز، صحافی، مزدور، کسان اور سیاسی حلقے—سب ایک آواز بن گئے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود تھے، لیکن قومی مفاد کے معاملے پر ہر شخص ایک ہی صف میں کھڑا دکھائی دیا۔ یہی “بنیانِ مرصوص” کی روح ہے کہ ذاتی نظریات اور مفادات سے بلند ہو کر اجتماعی مقصد کے لیے متحد ہو جانا۔

ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے بھی اس دوران اہم کردار ادا کیا۔ جہاں ایک طرف افواہوں اور غلط اطلاعات کے پھیلاؤ کا خطرہ تھا، وہیں باشعور شہریوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصدیق شدہ معلومات کو ترجیح دی۔ اس طرزِ عمل نے یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں قومی دفاع صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اطلاعاتی محاذ پر بھی ہوتا ہے، اور اس محاذ پر بھی اتحاد ناگزیر ہے۔

10 مئی کے حالات نے نوجوان نسل کو بھی ایک اہم سبق دیا۔ نوجوانوں نے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے قومی شعور کا اظہار کیا اور یہ دکھایا کہ حب الوطنی صرف جذباتی نعروں کا نام نہیں بلکہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک باشعور نوجوان ہی مستقبل میں قوم کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بیرونی دباؤ اکثر اندرونی اتحاد کو مضبوط کر دیتا ہے۔ جب قوم کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی سلامتی، آزادی اور وقار داؤ پر لگا ہے تو وہ اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ مئی 2025 کے حالات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سیاسی وابستگیوں، علاقائی تقسیم اور فکری اختلافات سے بالاتر ہو کر قوم نے یکجہتی کا ثبوت دیا۔

تاہم اصل امتحان صرف ہنگامی حالات میں اتحاد دکھانے کا نہیں بلکہ امن کے دنوں میں بھی اسی جذبے کو برقرار رکھنے کا ہے۔ اگر ہم واقعی “بنیانِ مرصوص” بننا چاہتے ہیں تو ہمیں روزمرہ زندگی میں بھی باہمی احترام، برداشت اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی اداروں، گھروں اور سماجی حلقوں میں اتحاد و نظم کی تربیت دینا ہوگی تاکہ یہ جذبہ وقتی نہ رہے بلکہ قومی مزاج بن جائے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مضبوط قوم صرف طاقت سے نہیں بنتی بلکہ اس کی اصل قوت اس کے شہریوں کی فکری پختگی، اخلاقی استحکام اور اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے، قانون کی پاسداری کرے، اور قومی مفاد کو مقدم رکھے تو پوری قوم واقعی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتی ہے۔

10 مئی 2025 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ مشکل حالات میں اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب پوری قوم ایک مقصد کے تحت یکجا ہو جائے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو “ہم بنیانِ مرصوص ہیں” ہمیں دیتا ہے۔

آئیں ہم عہد کریں کہ ہم صرف آزمائش کے وقت ہی نہیں بلکہ ہر دن اس جذبے کو زندہ رکھیں گے۔ ہم اختلاف کے باوجود انتشار کا شکار نہیں ہوں گے، ہم تنوع کے باوجود متحد رہیں گے، اور ہم ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑے رہیں گے۔
کیونکہ جب ایک قوم “بنیانِ مرصوص” بن جاتی ہے تو کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔

More posts