Baaghi TV

جنگ بندی ختم؟امریکہ کا ایران پر دومقامات پر حملہ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کی افواج نے ایران کے اندر کم از کم دو مقامات پر “دفاعی نوعیت” کے حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری اور سمندری اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی افواج نے امریکی بحری جہازوں پر جوابی کارروائی کی ہے۔

امریکی ایک عہدیدار نے خبر رساں نیوز کو بتایا کہ امریکی افواج نے ایران کے دو اہم مقامات بندر عباس اور جزیرہ قشم پر محدود حملے کیے ہیں۔ان کے مطابق یہ کارروائیاں “دفاعی” نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد بڑے پیمانے پر جنگی آپریشن دوبارہ شروع کرنا نہیں تھا۔یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا، اور موجودہ صورتحال میں یہ مشن فوری طور پر دوبارہ شروع ہونے کا امکان کم ہے۔

ایرانی فوجی ترجمان نے سرکاری میڈیا کے ذریعے کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی تیل بردار جہاز اور دیگر سمندری اہداف کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ایرانی ترجمان کے مطابق امریکی حملے “دشمنانہ، دہشت گردانہ اور بحری قزاقی کے مترادف” ہیں،حملوں میں بندر خمیر، سیرک اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا،کچھ علاقائی ممالک کی مدد سے یہ کارروائی کی گئی،ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے جواباً امریکی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں، اور بعض رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں امریکی بحری یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب تین امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا،امریکی جہازوں کو نقصان کے بعد پیچھے ہٹنا پڑا،تاہم امریکہ کی جانب سے ان دعوؤں کی ابھی تک باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

خطے میں صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ایرانی شہر بندر عباس اور میناب میں دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران میں بھی فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا،بندر عباس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،یہ وہی علاقہ ہے جہاں جنگ کے آغاز میں ایک حملے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق ابھی غیر واضح ہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خطہ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

More posts