کویت کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے چار افراد کو سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کویت میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گرفتار افراد خفیہ طور پر کویت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سکیورٹی اداروں کو مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔
وزارت کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
کویتی حکام نے گرفتار افراد کی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی تاہم ابتدائی تحقیقات میں ان کے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ افراد کسی مخصوص مشن کے تحت ملک میں داخل ہونا چاہتے تھے یا نہیں۔
واقعے کے بعد کویت میں ساحلی نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے جبکہ سمندری حدود میں گشت تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر قانونی داخلے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک پہلے ہی سکیورٹی خدشات کے باعث حساس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس گرفتاری کے بعد خطے میں سفارتی اور سکیورٹی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
کویتی وزارتِ داخلہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کویت میں پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے 4 افراد گرفتار
