پنجاب کے 38ڈپٹی کمشنرز،151اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل کمیٹی والے ہی ہمارے قاتل نہیں، اس قتل و غارت گری کا حکم دینے والے، بربریت میں ساتھ دینے والے اور ظلم پر خاموش رہنے والے پارلیمنٹیرین اور تمام سرکاری افسران بھی مجرم ہیں جنہوں نے ظلم کو روکنے کی بجائے ظالم کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔
اے مالک کائنات تم نے کُنْ کہنا ہے اور فَیَکونُ۔ اے اللہ تجھے تیری منصفی کا واسطہ ہم پر ظلم کرنے والوں کو تباہ و برباد کر دے۔
بے گھر کتوں کی نسل کشی اور ان پر مظالم کی انتہا کرنے میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے، آزاد کشمیر تیسرے، وفاق چوتھے، خیبر پختونخوا پانچویں، بلوچستان چھٹے اور گلگت بلتستان ساتویں نمبر پر ہے۔اے رب کائنات ریاست پاکستان کے مسلمانوں سے دیگر ممالک کے غیر مسلم کہیں اچھے اور نیک ہیں، کافر ممالک میں کتوں کو گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے ناصرف کھانا فراہم کیا جاتا ہے بلکہ گرمی سردی میں گھروں اور دفاتر میں پناہ دی جاتی ہے۔ یہ کیسا اسلامی ملک اور کیسے مسلمان ہیں جو اپنے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بجائے جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں جانوروں خاص طور پر کتوں کے ساتھ حسن سلوک واحد عمل ہے جس پر کافر کو بھی جنت کی بشارت مل گئی اور جانوروں پر ظلم کے بدلے مسلمانوں کو بھی جہنم اور عذاب کی وعید کی گئی۔
اے اللہ ہم تو بھوک سے نڈھال تھے ایسے میں انتہائی غیر معیاری اور باسی کیک کو بھی تیرا شکر ادا کرتے کھانے کو لپکے لیکن معلوم نہیں تھا کہ اس کیک پر پنجاب کی ضلعی انتظامیہ نے strychnineزہر لگایا ہوا تھا۔ اے اللہ ان ظالم انسانوں کے زہر ملے کیک سے کئی منٹ تک درد کی شدت اور تڑپ سے جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ شاید ان انسانوں کو نہیں ہوسکتا۔ اے رب کائنات زہر اور فائرنگ سے ایک ایک قطرہ کرکے خون نکلنے اور رگیں کٹنے سے جو تکلیف پہنچی کیا تم اس تکلیف کا بدلہ نہیں لو گے؟
اے سب سے بڑے تخت کے مالک ہمارے خون ناحق کے بدلے ان زمینی تخت والوں کے تخت الٹا دے۔
اے اللہ مساجد تو تیرا گھر ہیں، تیرے نبیﷺ کے دور میں مسجد نبوی میں کتے داخل ہوتے تھے مگر نہ تو صحابہ مسجد دھوتے اور نہ ہی کتوں کو مارتے۔ جن مساجد سے جانوروں کے حقوق اور ان سے صلہ رحمی کی تعلیمات دی جانی چاہئے تھیں ان مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے بدبخت ڈپٹی کمشنرز کے دھمکی آمیز اعلانات کیے جارہے ہیں کہ جہاں بھی کتا نظر آیا زہر دے کر مار دیا جائے گا۔ اے اللہ ان مولویوں نے پنجاب حکومت کے وظیفے کے بدلے یا فرعون بنے ڈی سی کے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خلاف اسلام و انسانیت اعلان کر دیا۔
اے اللہ تم نے ایک اونٹنی پر ظلم کے بدلے پوری قوم پر عذاب نازل کیا تھا اے اللہ ان بدبختوں کو بھی زمین میں نگل لے۔
ایک اور کتیا زاروقطار روتے ہوئے دربار الہی میں انصاف کیلئے گرگراتے ہوئے بولی کہ اے پرودگار عالم انصاف کا تقاضہ ہے کہ میرے بچوں کو یتیم کرنے والوں کے بچوں کو بھی یتیم کر، جس درندگی سے ماؤں کے سامنے ان کے بچے مارے گئے اسی طرح ان ظالموں کو بھی اولاد کا دکھ دے۔
اے منصف اعلیٰ یہ زمین تو ہماری تھی یہ انسان تو بعد میں آئے پہلے انہوں نے ہمارے جنگلات چھین کر کنکریٹ بچھا دیے، پھر بھی ہم ان کے ساتھ باخوشی رہتے رہے اور روٹی کے چند لقموں کیلئے گلیوں بازاروں اور کوڑے کے ڈھیڑ سے رزق اکٹھا کرتے۔ انہی انسانوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں کو گاڑیوں کے نیچے دیگر تو کبھی پتھر مار کر زخمی کیا، زخموں کا اعلاج نہ ہونے سے جب وہ باؤلے ہو کر کاٹنے لگے تو چند باؤلے کتوں کی وجہ سے لاکھوں کو تڑپا تڑپا کر مارنا کہاں کا انصاف؟
ہمارے نام پر بنائے گئے ادارے اور ویٹنڑی ہسپتالوں میں کرپشن تو کی جاتی ہے مگر ہمارا اعلاج نہیں۔
اے اللہ کئی مہینوں سے جاری اس بربریت اور خون ریزی کو روکنے کیلئے کسی نے کوشش نہیں کی۔
صحافیوں سے امید تھی کہ یہ ہماری آواز بنیں گے لیکن ان قلم فروشوں نے ہماری آواز بننے سے اس لیے انکار کردیا کہ انہوں نے سرکاری ٹھیکے اور کام نکلوانے ہوتے ہیں اس لیے یہ بھی اس قتل ناحق پر ہماری آواز نہ بنے۔
سول سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے کچھ شہریوں نے انتظامی افراد کو ہمیں پکڑنے اور مارنے سے روکنے کی کوشش کی تو ان بے ضمیر سرکاری کارندوں نے سول سوسائٹی کے ان افراد پر کار سرکار میں مداخلت کے پرچے کروا کے بند کردیا۔
جب کبھی بین الاقواموں خبروں میں کتوں کا ذکر ہوتا تھا تو یہ سن کر بہت خوشی ہوتی کہ پاکستان کے سٹریٹ ڈاگ کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین کتوں میں ہوتا ہے۔
اے رب کائنات ہمیں لگتا تھا کہ باقی ادارے تو کرپٹ ہیں لیکن کم از کم اس وطن عزیز کی پاک افواج جس طرح باقی شہریوں کی حفاطت کرتی ہیں ہم بھی تو اس وطن کا حصہ ہیں وہ ہمیں ضرور بچائیں گے لیکن شومئی قسمت کہ ہمارا درد، ناحق بہتا لہو اور چیخ و پکار ان تک بھی نہ پہنچ سکی۔
سول سرکاری محکموں میں ہر طرف لٹیرے اور بے حس لوگ ہیں سوچا کہ عدلیہ تو ہمارا ساتھ دے گی لیکن وہاں بھی ایک جج صاحب نے ہماری قتل وغارت کو روکنے کے احکامات جاری کرکے دوبارہ پوچھا تک نہیں، سول افسران جو پہلے ہی عدالتی احکامات کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے سرعام فائرنگ اور زہر سے خون ریزی جاری رکھی لیکن کسی جج نے نہ تو ان کو روکا اور نہ توہین عدالت کی کاروائی کی۔ اے منصف اعلیٰ تیری عدالت سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاسکتے۔
یا اللہ پنجاب اور وطن عزیز پاکستان میں مظالم اذیتوں اور بربریت کا شکار معصوم و بے گھر کتےخون ناحق بہانے میں ملوث ہر ظالم کے انجام کے لیے تیرے کُنْ فَیَکونُ کے منتظر ہیں۔
