Baaghi TV

28ویں مجوزہ آئینی ترامیم اور 18ویں ترمیم میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز سامنے آ گئیں

parliment

اسلام آباد: 28ویں مجوزہ آئینی ترامیم اور 18ویں ترمیم میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں،

نجی ٹی وی کے مطابق نئے صوبے بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ذرائع کے مطابق تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اب صوبائی اسمبلی کی اجازت کے بغیر بھی نئے صوبے بنانے کے لیے قانون سازی ممکن ہوگی،پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کی منظوری سے نیا صوبہ قائم کیا جا سکے گا, 18ویں ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی متوقع ہے اور صوبوں کے حصے میں کٹ لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،فاٹا کی سابقہ حیثیت بحال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے،کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیر انتظام شہر قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے،ان شہروں کے ترقیاتی منصوبے، ریونیو اور فنڈنگ وفاقی حکومت کے پاس ہونے کی بات کی گئی ہے،گورنر راج کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری کی شرط ختم کرنے کی تجویز ہے، اس کے تحت گورنر راج کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کرے گی،حکومت کی مدت سے متعلق بھی تبدیلیوں پر غور جاری ہے، جس میں مدت کو 5 سال سے غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی تجویز شامل ہے،جنگی حالات، معاشی بحران اور قدرتی آفات کی بنیاد پر انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں،تعلیم اور صحت کی وزارتیں صوبوں سے لے کر وفاق کو دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے اور اس کا 700 ارب روپے کا بوجھ وفاق سے ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،صوبے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والی رقم سے امدادی پروگرام جاری کریں گے،

More posts