امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانپر کل کے لیے طے شدہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان نے ان سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ اس وقت اہم سفارتی مذاکرات جاری ہیں، ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے سیکریٹری دفاع ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ کل ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار رہے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی اخبارنیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ “بہت جلد کیا ہونے والا ہے”۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر 20 سالہ پابندی کے بدلے کسی سمجھوتے پر آمادہ ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ “اس وقت کسی چیز کے لیے تیار نہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب پہلے سے زیادہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے امریکی ردعمل کی شدت کا اندازہ ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے حالیہ دورے سے واپسی کے بعد ٹرمپ نے ریاست ورجینیامیں اپنے گالف کلب پر قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی، جہاں ایران کے خلاف آئندہ ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
