Baaghi TV

وفاقی شرعی عدالت کا خودکشی قانون سے متعلق بڑا فیصلہ

‎فیڈرل شریعت کورٹ نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 دوبارہ بحال کرتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو ایک بار پھر قابلِ سزا جرم قرار دے دیا ہے۔
‎عدالت نے کرمنل لاز ایکٹ 2022 کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا، جس کے تحت خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔
‎یہ محفوظ فیصلہ جسٹس اقبال حمید الرحمان، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس امیر محمد خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سنایا۔
‎پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 325 کے مطابق جو شخص خودکشی کی کوشش کرے گا یا اس مقصد کیلئے کوئی قدم اٹھائے گا، اسے ایک سال تک سادہ قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
‎یہ مقدمہ ایڈووکیٹ حماد سعید ڈار کی درخواست پر سنا گیا، جن کا مؤقف تھا کہ خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے نکالنا قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
‎درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کرمنل لاز ایکٹ 2022 کو اسلامی احکامات سے متصادم قرار دے کر ختم کیا جائے۔
‎فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کے بعد اب دفعہ 325 دوبارہ ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہے۔
‎واضح رہے کہ دسمبر 2022 میں اُس وقت کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کرمنل لاز ایکٹ 2022 کی منظوری دی تھی، جس کے ذریعے خودکشی کی کوشش کو جرم کے دائرے سے نکال دیا گیا تھا۔
‎یہ ترمیمی بل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے 2021 میں سینیٹ میں پیش کیا تھا، جسے بعد ازاں پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا تھا۔
‎قانونی اور سماجی حلقوں میں فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض ماہرین اسے مذہبی اور قانونی نقطۂ نظر سے اہم قرار دے رہے ہیں جبکہ ذہنی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے افراد کو سزا کے بجائے علاج، مشاورت اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

More posts