ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے محفوظ ٹرانزٹ کیلئے ایک نیا مشترکہ میکانزم تیار کر رہے ہیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے، اسی لیے ایران ہمیشہ اس راستے سے محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان بطور ساحلی ممالک اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ اس اہم بحری راستے پر جہازوں کی نقل و حرکت مکمل تحفظ کے ساتھ جاری رہے۔
ترجمان کے مطابق اس مقصد کیلئے دونوں ممالک کے حکام مسلسل رابطے میں ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے مسقط میں ماہرین کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا۔
اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل پر ایران کے خلاف جارحیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کیلئے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر واپس کیے جائیں کیونکہ یہ ایران کا قانونی حق ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی امداد کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ اپنے ہی منجمد اثاثوں کی واپسی چاہتا ہے، ساتھ ہی ایران پر عائد عالمی پابندیاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اسی وجہ سے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کیلئے نیا ٹرانزٹ میکانزم تیار کرنے لگے
