Baaghi TV

ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی

شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔

مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔

انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔

حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔

پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
"بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔

ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
"بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔

وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
"میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔”

More posts