وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر اُن کے اعزاز میں ناشتے کی ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا
وزیراعظم نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے امن، استحکام اور حکومتوں و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اُن کے عزم کو سراہا۔انہوں نے ان اعلیٰ مقاصد کے لیے پاکستان کے مشترکہ عزم کا بھی اعادہ کیا۔وزیراعظم نے پاکستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے دیہی ترقی، صحت، تعلیم، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت اور نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے شعبوں میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خصوصاً گلگت بلتستان اور چترال کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اے کے ڈی این کے مؤثر کردار کو سراہا۔وزیراعظم نے پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال میں اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی ترغیب دی، جہاں ادارہ جاتی موجودگی اور عوامی خدمات کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ مزید تعاون کا بھی خیرمقدم کیا اور صحت و اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں اس کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ماحولیاتی تحفظ کے لیے پرنس رحیم آغا خان پنجم کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، خصوصاً گلیشیئرز سے متاثرہ شمالی علاقوں میں ماحولیاتی استحکام کے فروغ کے لیےاے کے ڈی این ایک قدرتی اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کا پاکستان کے دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اُن کا دوسرا گھر رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرنس رحیم کے باقاعدہ دورے پاکستان اور اسماعیلی برادری کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے سرینا ہوٹل بلا معاوضہ فراہم کرنے پر پرنس رحیم آغا خان پنجم کی فراخدلانہ معاونت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔وزیراعظم نے پرنس رحیم کے والدِ گرامی، مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مرحوم آغا خان کی تقریباً سات دہائیوں پر محیط پاکستان سے وابستگی اور اُن کی لازوال انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
