ایران سے متعلق جاری کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال کے باعث اس سال حج کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ بعض سفری پیکجز کی قیمتیں تین سے چار گنا تک بڑھ گئی ہیں۔
بین الاقوامی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں فضائی آپریشن متاثر ہونے، پروازوں کی محدود دستیابی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث عازمینِ حج کو غیر معمولی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روانگی سے قبل ٹریول پیکجز کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی مسلم ممالک نے اپنے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے خصوصی سبسڈی فراہم کی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود زیادہ سے زیادہ افراد حج کی سعادت حاصل کر سکیں۔
انڈونیشیا نے اپنے دو لاکھ سے زائد عازمین کے لیے فضائی اخراجات میں اضافی 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم برداشت کی، جبکہ پاکستان اور ملائیشیا نے بھی حج پیکجز پر سبسڈی دینے کے اقدامات کیے ہیں۔ دوسری جانب بھارت نے فضائی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے عازمین پر اضافی سرچارج عائد کر دیا ہے۔
آئندہ ہفتے مکہ مکرمہ میں حج کے مرکزی مناسک کا آغاز ہوگا۔ گزشتہ برس تقریباً 16 لاکھ مسلمان دنیا بھر سے حج کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے، جن میں پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے عازمین کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
سعودی عرب کی جانب سے بھی حج اور عمرہ کے شعبے کو وژن 2030 کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مملکت ہوائی اڈوں، ٹرانسپورٹ، میٹرو سروس اور ہوٹلنگ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ مذہبی سیاحت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ایران جنگ کے باعث حج اخراجات میں کئی گنا اضافہ
