Baaghi TV


ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

‎اسرائیلی اخبار “اسرائیل ہیوم” نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دو مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے یا سخت مؤقف اپنانے پر سینئر امریکی حکام کے درمیان سخت بحث ہوئی۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے بعض اعلیٰ حکام کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی منظوری دے دی۔
‎اسرائیلی میڈیا کے مطابق اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف سخت پالیسی کی حمایت کی۔
‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے حق میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی حالیہ تجاویز میں لچک موجود ہے اور اس بنیاد پر ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
‎دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت صرف دباؤ اور سخت پالیسی کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات سے خاطر خواہ نتائج کی توقع کم ہے۔
‎اسرائیلی اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ اجلاس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، جنہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان مباحث کے بعد صدر ٹرمپ ایران کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہوئے۔
‎ادھر امریکی اور ایرانی مذاکرات سے متعلق نئی تجاویز سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تشویش میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ممکنہ معاہدہ ایران کو مزید سفارتی اور اقتصادی ریلیف دے سکتا ہے۔

More posts