فرانسیسی اخبار Le Monde کی جانب سے پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت طاہر محمود بھٹی سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ پر ان کے وکیل نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبر میں موجود معلومات کو غلط قرار دے دیا .
پیرس بار سے تعلق رکھنے والے معروف وکیل پاسکل پیئر گاربارینی نے اپنے مؤکل طاہر بھٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 19 مئی 2026 کو شائع ہونے والے مضمون میں متعدد حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ فرانسیسی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ طاہر بھٹی کو ٹیکس فراڈ اور اس سے متعلق منی لانڈرنگ کے مقدمے میں پیرس کورٹ آف اپیل نے 24 ماہ قید کی معطل سزا، ڈیڑھ لاکھ یورو جرمانہ، دس سال کے لیے کاروبار چلانے پر پابندی اور تین جیگوار گاڑیوں سمیت قیمتی گھڑیوں کی ضبطی کی سزا سنائی ہے۔
تاہم طاہر بھٹی کے وکیل نے اس رپورٹ کو نامکمل اور حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اخبار نے مؤقف جاننے کے لیے دفاعی ٹیم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ وکیل کے مطابق خبر میں یہ دعویٰ بھی غلط کیا گیا کہ تین جیگوار گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں، جبکہ عدالتی حکم صرف ایک جیگوار گاڑی سے متعلق تھا۔پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ طاہر بھٹی نے مقدمے کے آغاز سے ہی اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو مسترد کیا ہے اور وہ قانونی طور پر اپنا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔
