حزب اللہ کی جانب سے راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنی شمالی سرحدی پٹی میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے اسکول بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی سرحدی علاقوں میں تمام تعلیمی ادارے پیر کے روز بند رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ خطرات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا تاکہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ فوجی حکام کے مطابق شمالی علاقوں میں کسی بھی اجتماع میں زیادہ سے زیادہ 50 افراد کے شریک ہونے کی اجازت ہوگی۔ ان پابندیوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں جانی نقصان کو کم سے کم رکھنا ہے۔
اسرائیلی حکام نے شمالی اسرائیل کے ساحلی علاقوں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان علاقوں میں عوامی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی ترغیب دے۔
دوسری جانب اسرائیل کی وزارت صحت نے بھی ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزارت کے مطابق شمالی علاقے میں واقع ایک اہم میڈیکل سینٹر کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر زیر زمین محفوظ کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور مریضوں و طبی عملے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔