تمباکو نوشی نہ صرف پینے والے کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات معاشرے اور اس کے خاندان پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔
تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو انسان کی صحت معیشت اور معاشرتی زندگی کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل، طلبہ اور یہاں تک کہ کم عمر بچے بھی اس زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمباکو سے پاک پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔
تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ سگریٹ نسوار حقہ اور دیگر تمباکو مصنوعات پھیپھڑوں، دل، گردوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص متاثر ہوتا ہے ۔ گھروں میں بچےخواتین اور بزرگ اس دھوئیں کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ آگاہی کی کمی ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کی صحبت، فیشن یا ذہنی دباؤ کے باعث سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف شوق ہوتا ہے مگر بعد ازاں یہ ایک خطرناک نشہ بن جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سگریٹ کی آسان دستیابی نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتی ہے۔ اگر حکومت سخت قوانین نافذ کرے اور کم عمر بچوں کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک بڑا بوجھ ہے۔ ایک عام مزدور یا متوسط طبقے کا فرد روزانہ اپنی کمائی کا ایک حصہ سگریٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اگر یہی رقم تعلیم، خوراک یا صحت پر خرچ کی جائے تو خاندان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کو تمباکو سے حاصل ہونے والا ٹیکس وقتی فائدہ ضرور دیتا ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر کہیں زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑھتی تعداد اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔
تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اس زہر کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اساتذہ تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کریں جبکہ علماء کرام خطبات میں انسانی صحت کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کریں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ تمباکو کمپنیوں کے اشتہارات کی حوصلہ شکنی کرے اور عوامی آگاہی مہمات چلائے۔
دنیا کے کئی ممالک نے تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ اور تعلیمی مہمات کے ذریعے لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں انسداد تمباکو مہم شروع ہونی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچایا جا سکے۔ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ہماری نوجوان نسل بیماریوں کا شکار ہو جائے گی تو ملک کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صاف ماحول، بہتر صحت اور روشن مستقبل دینا ہوگا۔ “تمباکو سے پاک پاکستان” دراصل ایک صحت مند، خوشحال اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ نہ صرف خود تمباکو نوشی سے دور رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ ہر فرد اگر اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان واقعی تمباکو سے پاک ملک بن جائے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ ہم سب مل کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں، ایسا پاکستان جہاں نوجوان صحت مند ہوں، فضاء صاف ہو اور ہر چہرے پر زندگی کی روشنی نظر آئے۔ یہی ایک کامیاب، ترقی یافتہ اور خوشحال قوم کی پہچان ہے۔
