کراچی میں منشیات اسمگلنگ کے ایک اہم مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے دو اہم سہولت کاروں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستِ ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیل میں قید ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ ساتھیوں سہیل الرحمان اور ذیشان نے سیشن عدالت جنوبی میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ دونوں ملزمان کے خلاف کراچی کے تھانہ گارڈن میں منشیات فروشی اور مبینہ سہولت کاری کا مقدمہ درج ہے۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلان بے قصور ہیں اور ان کا انمول عرف پنکی یا کسی منشیات کے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر انمول پنکی کے نیٹ ورک کے اہم کردار ہیں۔ استغاثہ کے مطابق انمول پنکی کے جیل میں ہونے کے باوجود اس کا نیٹ ورک بیرونِ جیل فعال رہا اور اس میں سہیل الرحمان اور ذیشان کا کردار انتہائی اہم بتایا جا رہا ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کی گرفتاری تفتیش کے لیے ضروری ہے اور انہیں ضمانت دینا تحقیقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق محفوظ فیصلہ رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ ملزمان کو ریلیف ملتا ہے یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور منشیات کے مبینہ نیٹ ورک چلانے کے الزامات کے تحت مختلف مقدمات زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
انمول پنکی کے مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ
