اقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں مزید افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق جنگ کے اثرات صرف تنازع والے علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور سپلائی چین کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے نے خوراک کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار مالی وسائل کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امدادی تنظیمیں محدود وسائل کے باعث اپنی امدادی کارروائیوں میں کمی کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر کمزور اور غریب آبادیوں پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج فارس میں کشیدگی اور اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں کئی بحری جہازوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے، جس سے سامان کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں تاخیر پیدا ہوئی۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان، صومالیہ اور سری لنکا ان ممالک میں شامل ہیں جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک کے عوام کو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ایندھن کے مہنگے ہونے، آمدنی میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں تقریباً 6.5 ملین افراد، جو ملک کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہیں، 2026 تک شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان میں 17.4 ملین افراد خوراک کی کمی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں ختم نہ ہوئیں تو صومالیہ میں مزید 2.5 ملین جبکہ افغانستان میں مزید 2.3 ملین افراد شدید بھوک اور غذائی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک خوراک اور توانائی کی درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں، اس لیے عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ ان کے لیے سنگین انسانی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے عالمی برادری سے فوری امدادی اقدامات اور مالی تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے تاکہ لاکھوں جانوں کو بھوک اور غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ جنگ سے لاکھوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار
