Baaghi TV


ٹرمپ کا اعتراف، ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں

‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ وینزویلا جیسا نہیں ہے اور اسے ایک آسان یا فوری تنازع نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے صورتحال پیچیدہ ہے اور اس کے حل کے لیے مختلف عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی نوعیت واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور یہ واشنگٹن کی بنیادی پالیسی رہے گی۔
‎ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اگر چاہے تو ایران سے جوہری مواد نکال سکتا ہے، تاہم ان کے بقول اس وقت ایسا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سفارتی اور سیاسی ذرائع سے بھی معاملات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
‎امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور اسے جلد مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
‎ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے امکان کے بارے میں سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ذاتی خواہش ایسی ملاقات کی نہیں، تاہم اگر کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ملاقات ضروری ہوئی تو وہ اسے اعزاز سمجھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کا مقصد تنازعات کا حل اور استحکام کا فروغ ہونا چاہیے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو اہمیت دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک اہم اختلافی نکات پر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں کمی اور استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
‎عالمی برادری بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی بھی مثبت یا منفی پیش رفت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts