سفاکیت کی انتہا گوجرخان میں 30 سالہ زبیر پر وحشیانہ تشدد، نازک اعضاء کو نشانہ بنایا گیا، راولپنڈی ہسپتال میں دم توڑ گیا
زیادتی کا الزام جھوٹا ہے، میرے بیٹے کو بے دردی سے مارا گیا زبیر کے والد کا چیف جسٹس اور آئی جی پنجاب سے انصاف کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے علاقے بیول میں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے سفاک ملزمان نے اپنی عدالت لگا لی، جس کے نتیجے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والا 30 سالہ نوجوان زبیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راولپنڈی کے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق، ملزمان نے زبیر نامی نوجوان کو ایک ڈیرے پر لے جا کر محبوس کیا اور ایک بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا الزام لگا کر اسے ڈنڈوں اور دیگر آلات سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ملزمان نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کے نازک اعضاء پر بھی ضربات لگائیں۔ تشویشناک حالت میں نوجوان کو راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا، جہاں کئی گھنٹے موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ دوسری جانب، مقتول زبیر کے والد نے اپنے بیٹے پر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ لواحقین نے قاضیاں پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ پولیس نے اس حساس معاملے میں داد رسی کے بجائے ناروا سلوک اختیار کیا۔ مقتول کے خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث سفاک ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے اور پولیس کی غفلت کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ علاقے میں اس ہولناک واقعے کے بعد سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
بیول میں مبینہ پنچایتی انصاف کی بھینٹ چڑھ کر نوجوان جاں بحق
