بھارت کے فوجی آپریشن ’’بلیو سٹار‘‘ کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں، تاہم سکھ برادری آج بھی اس واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی منتظر ہے۔ آپریشن بلیو سٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو بھارتی فوج کی جانب سے امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمل (سری دربار صاحب) پر کارروائی سے ہوا تھا، جسے سکھ تاریخ کے سب سے المناک واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس فوجی آپریشن کے دوران گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں موجود ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ مختلف ذرائع اور سکھ تنظیموں کے مطابق کارروائی میں مردوں، خواتین، بزرگوں اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔
آپریشن بلیو سٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ عالمی سطح پر سکھ برادری اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ممالک میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
اس دوران بھارتی فوج اور سرکاری اداروں سے وابستہ کئی سکھ افسران نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس کارروائی پر شدید تنقید کی گئی۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے آپریشن بلیو سٹار کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین غلطی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی نے سکھ برادری کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔معروف سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر کے مطابق آپریشن بلیو سٹار ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے اثرات آج بھی سکھ برادری محسوس کر رہی ہے۔ دوسری جانب سینئر بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے اپنی تحریروں اور تجزیوں میں اس کارروائی کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور تاریخ کی بڑی عسکری ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
آپریشن بلیو سٹار کے 42 سال گزرنے کے باوجود اس واقعے سے متعلق سوالات، تنازعات اور انصاف کے مطالبات آج بھی برقرار ہیں۔ دنیا بھر میں سکھ برادری ہر سال جون کے آغاز میں اس سانحے کی یاد مناتی ہے اور متاثرین کے لیے انصاف اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ دہراتی ہے۔
