ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنانی فوج پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری اور ریاستی اداروں کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل لبنان کے تمام ریاستی اور قومی اداروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنانی فوج کے دو افسران اور ایک اہلکار کی ہلاکت ایک سنگین اور افسوسناک واقعہ ہے۔ انہوں نے اس حملے کو لبنان، اس کی فوج اور قومی خودمختاری کے خلاف ایک "بھیانک جرم” قرار دیا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل لبنان میں امن، استحکام اور خوشحالی نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔
اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اپنے حملوں میں فوجیوں، مزاحمتی عناصر اور عام شہریوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا اور ہر طبقہ اس کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حملے میں جان بحق ہونے والے لبنانی فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لبنانی فوج، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی اور حمایت کا پیغام بھی دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور لبنان و اسرائیل کے درمیان سرحدی تناؤ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی حلقے صورتحال میں مزید بگاڑ کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سفارتی کوششوں اور امن کے اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے اور علاقائی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
لبنانی فوج پر اسرائیلی حملہ، ایران کی شدید مذمت
