Baaghi TV


وسطی افریقہ میں ایبولا سے 84 اموات، عالمی ایمرجنسی نافذ

Corona virus

‎عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 84 تک پہنچ چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 471 ریکارڈ کی گئی ہے۔
‎ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق جمہوریہ کانگو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں اب تک 452 مصدقہ کیسز اور 82 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب پڑوسی ملک یوگنڈا میں 19 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں جبکہ دو اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ایک دن کے دوران 100 نئے کیسز اور 20 اموات کا اضافہ سامنے آیا، جس سے وبا کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ وبا ماضی کی تباہ کن عالمی وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے۔
‎امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال 2014 کی مغربی افریقہ کی ایبولا وبا سے مماثلت اختیار کر سکتی ہے۔ اس وبا کے دوران 28 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جبکہ 11 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
‎طبی ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس قریبی جسمانی رابطے اور متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران افریقہ میں اس مہلک وائرس کے باعث 15 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق موجودہ وبا پہلی مرتبہ 15 مئی کو شمال مشرقی کانگو میں سامنے آئی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ وائرس اس سے قبل بھی خاموشی سے مختلف علاقوں میں پھیل رہا تھا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ وائرس کی اس مخصوص قسم کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔
‎صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت اور افریقی سی ڈی سی نے آئندہ چھ ماہ کے لیے 518 ملین ڈالر کے ہنگامی منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، لیبارٹری ٹیسٹنگ میں اضافہ کرنے اور انفیکشن کی روک تھام کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

More posts