ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی اعلان کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی میں اضافے اور امریکی حملوں کے نئے سلسلے کے بعد تہران نے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان "خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز” نے جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تمام قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق تیل بردار ٹینکروں، تجارتی جہازوں اور دیگر بحری جہازوں پر بھی ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اعلان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی اور اتحادی بحری افواج پہلے ہی خلیج کے پانیوں میں اپنی موجودگی بڑھا چکی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی مذاکرات کی طرف بڑھے گی یا خطہ مزید فوجی تصادم کی جانب بڑھ جائے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا
