Baaghi TV


ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملے منسوخ کر دیے

‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی حملے اور بمباری مہم منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تمام تر توجہ تہران کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر مرکوز ہے۔
‎اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق فریقین معاہدے کی شرائط پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
‎امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ مجوزہ حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں، تاہم ایران پر عائد بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک نافذ رہیں گی جب تک دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ معاہدے پر دستخط نہیں ہو جاتے۔
‎ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کی حتمی شرائط متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لی گئی ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ معاہدہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دستخطی تقریب کی تاریخ اور مقام کا اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا۔
‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے اور فوجی تصادم کے خدشات مسلسل بڑھ رہے تھے۔ عالمی برادری بھی دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کے امکانات پر تشویش کا اظہار کر رہی تھی۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق حملوں کی منسوخی اور معاہدے کی جانب پیش رفت خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدگی میں کمی آنے کا امکان ہے۔
‎بین الاقوامی سطح پر اس اعلان کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے دیرپا حل تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے۔

More posts