بھارتی انٹیلی جنس حکام کی طرف سے آزاد کشمیر میں پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو مبینہ طور پر مالی مراعات اور مختلف وعدوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے معاشی مشکلات کا شکار افراد کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض بھارتی شہری یا سہولت کار لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے افراد سے رابطے قائم کرتے ہیں اور انہیں روزگار، مالی مدد یا دیگر فوائد کا لالچ دے کر لائن آف کنٹرول عبور کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہولت کار خود بھی لائن آف کنٹرول عبور کر کے آزاد کشمیر پہنچ جاتے ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت سادہ لوح اور ضرورت مند افراد کو لائن آف کنٹرول عبور کرا دیتے ہیں۔ بھارتی حکام ایسے افراد کو مقبوضہ کشمیر پہنچنے کے بعد بھارتی اداروں کی جانب سے حراست میں لیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حراست کے دوران بعض افراد کو مختلف نوعیت کی تربیت دی جاتی ہے اور بعد ازاں انہیں واپس آزاد کشمیر یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھیجنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں دسمبر 2025 میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 تک 556 گرفتاریاں بھارت پاکستان سرحد سے کی گئیں۔ان افراد کو مقامی سطح پر بدامنی، اشتعال انگیزی اور عوامی بے چینی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کے منصوبہ پر کام کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں آزاد کشمیر میں بعض پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث اکثر افراد کے روابط بھی ایسے نیٹ ورکس سے جوڑے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں حالیہ عرصے کے دوران مختلف احتجاجی اور سیاسی ریلیوں کو پرتشدد رخ دینے کی کوششوں میں بھی ایسے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے رابطے میں رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت لائن آف کنٹرول غلطی سے پار کر کے بھارتی کشمیر میں جا چکی ہے جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بعض افراد نے عوامی اجتماعات میں اشتعال انگیزی، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے اور احتجاجی سرگرمیوں کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ منصوبے کا مقصد آزاد کشمیر میں سیاسی اور سماجی عدم استحکام پیدا کرنا، امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنا اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے نیٹ ورکس صرف معاشی مشکلات کا شکار سادہ لوح نوجوانوں اور کمزور طبقات کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں مالی معاونت یا دیگر مراعات کا لالچ دیتے ہیں اور بعد ازاں مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
