آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب سے 18 ہزار ارب روپے کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ اجلاس سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا جبکہ بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دی گئی ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی منظوری پیش کیے جانے سے قبل وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔دستاویزات میں آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 682 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 224 ارب 51 کروڑ روپے دینے کی تجویز ہے، جبکہ آبی وسائل ڈویژن کے لیے 103 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پاور ڈویژن، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے منصوبوں کے لیے 88 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ترقیاتی فنڈز بنیادی ڈھانچے، توانائی اور آبی وسائل کے شعبوں میں جاری اور نئے منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ بجٹ تقریر کے دوران مزید مالی اور اقتصادی اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے۔
