وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد مزید سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت معیشت میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت مختلف شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ، بینکاری اور انشورنس کے شعبوں میں بھی اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا وژن یہ ہے کہ نجی شعبہ معیشت میں مرکزی کردار ادا کرے جبکہ ریاست ایک مؤثر ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ مستقبل کی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے اور سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے نجی شعبے کو مزید مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بعض معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مواقع کو مستقل فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق علاقائی صورتحال میں بہتری، اقتصادی انضمام اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی خطے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حکومت مختلف ممکنہ معاشی مواقع اور چیلنجز کے حوالے سے پہلے ہی مشاورت اور منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ یا تنازع کو مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن موجودہ حالات میں پاکستان کی بندرگاہوں، خصوصاً پورٹ قاسم اور گوادر، کی جانب بین الاقوامی تجارتی توجہ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے بہاؤ کو طویل المدتی بنیادوں پر برقرار رکھا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مستقل فائدہ پہنچ سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے بعض شعبوں میں کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے، تاہم اس عمل کی شفافیت اور مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔
پی آئی اے کے بعد مزید سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کا عندیہ
