Baaghi TV


ایران معاہدے پر ڈیموکریٹس کی ٹرمپ پر شدید تنقید

‎امریکا میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ایران کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے اور امریکی فوجیوں کی جانوں کے ضیاع کے باوجود حاصل ہونے والے نتائج کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
‎کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ایڈم شف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، تاہم ماضی میں بھی ایسے اعلانات کیے گئے تھے جو بعد میں درست ثابت نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو بار بار ایسے وعدے سننے کو ملے جن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، جبکہ نئی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث مالی اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
‎دوسری جانب کانگریس کے رکن سیتھ مولٹن نے ممکنہ معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’ہتھیار ڈالنے کی دستاویز‘‘ قرار دیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر اس تنازع پر خرچ ہوئے، جبکہ 14 امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
‎سیتھ مولٹن کے مطابق اگر معاہدے کا سب سے بڑا نتیجہ صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے تو یہ کامیابی نہیں کہلا سکتی، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ جنگ سے قبل بھی بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے مالی اور جانی نقصان کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کو کس بنیاد پر سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق مجوزہ معاہدہ امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئندہ انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ڈیموکریٹک رہنما اس معاملے کو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم امتحان کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
‎دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل خطے میں استحکام، کشیدگی میں کمی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اعتماد کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ تاہم معاہدے کی حتمی تفصیلات اور اس پر دستخط کے حوالے سے صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی۔

More posts