امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملے کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہو گئی ہے، تاہم فریقین کے درمیان پیش رفت جاری ہے اور معاہدہ اب بھی قریب دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دستخط کی تقریب، جو پہلے فوری طور پر منعقد ہونا تھی، اب چند گھنٹے بعد متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی صورتحال نے شیڈول کو متاثر کیا، لیکن مذاکراتی عمل مکمل طور پر رکا نہیں ہے۔
امریکی صحافیوں کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان اگلے دو سے تین گھنٹوں کے اندر کسی معاہدے تک پہنچنے یا اس پر دستخط ہونے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ دونوں جانب سے سفارتی رابطے جاری ہیں اور معاملات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملوں اور اس کے بعد ممکنہ ردعمل کے خدشات نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور دونوں فریق کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی قابل قبول فارمولے پر کام کر رہے ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات تاحال باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، تیل کی برآمدات اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے حتمی اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام لانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فی الحال عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا فریقین آئندہ چند گھنٹوں میں معاہدے پر دستخط کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس پیش رفت کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی حملے سے امریکا ایران معاہدے میں چند گھنٹوں کی تاخیر، ٹرمپ
