وزیراعظم کی زیرِ صدارت گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ شمسی توانائی منصوبے کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے لیے 100 میگا واٹ شمسی بجلی منصوبے کے تمام اخراجات برداشت کرے گی، انہوں نے متعلقہ حکام کو منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے منصوبے کے تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنا نے کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرانے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے میں گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کے لیے 18 میگا واٹ شمسی توانائی کا منصوبہ بھی شامل ہے، حکام کے مطابق گلگت اور دیامیر کی سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کا منصوبہ دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا جبکہ بلتستان ڈویژن کی سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن اکتوبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے گلگت، سکردو ، چلاس اور خپلو میں گھروں کے لیے 82 میگا واٹ کے سولر منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے، اجلاس میں وفاقی وزراء اویس لغاری، احد چیمہ، احسن اقبال اور امیر مقام سمیت اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
