پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر نے قومی ویمن ٹیم کی کارکردگی پر ہونے والی تنقید، خاص طور پر خواتین کرکٹرز کو نشانہ بنانے والے رویوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف خواتین ہونے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو غیر منصفانہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ثناء میر نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم نے کبھی ورلڈ کپ نہیں ہارا؟ کیا ان کی کارکردگی میں کبھی اتار چڑھاؤ نہیں آیا؟ انہوں نے کہا کہ مرد کرکٹرز کی خراب کارکردگی پر کبھی کسی خاتون کرکٹر نے یہ نہیں کہا کہ وہ "تندور پر روٹی لگانے” کے زیادہ قابل ہیں، لیکن خواتین کرکٹرز کے بارے میں اس قسم کے توہین آمیز جملے عام سننے کو ملتے ہیں۔سابق کپتان نے کہا کہ خواتین کرکٹرز کو صرف ان کی جنس کی بنیاد پر زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر مصنوعی ذہانت ے ذریعے خواتین کرکٹرز کی جعلی ویڈیوز تیار کرکے جھوٹا پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں، جس سے نہ صرف کھلاڑیوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ خواتین کے کھیل کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
ثناء میر کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ معاشرتی ذہنیت سے شدید تکلیف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک خواتین کے بارے میں اس امتیازی سوچ کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں حقیقی ترقی ممکن نہیں ہوگی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کرکٹرز کو بھی وہی احترام، حوصلہ افزائی اور تعمیری تنقید ملنی چاہیے جو مرد کھلاڑیوں کو دی جاتی ہے، تاکہ وہ بہتر ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
