نئی دہلی: بھارت میں رام مندر کے فنڈز میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ مختلف میڈیا رپورٹس اور تجزیوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مندر کو ملنے والے عطیات کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رام مندر کو ماہانہ تقریباً 40 ملین سے 100 ملین بھارتی روپے تک عطیات موصول ہوتے ہیں، تاہم ان فنڈز کے استعمال میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بلومبرگ سے منسوب رپورٹس کے مطابق عطیات کے انتظام اور اخراجات کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
بھارتی سیاسی تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ عوام کی جانب سے مذہبی عقیدت کے تحت دیے گئے عطیات کا ایک حصہ مبینہ طور پر اپنے اصل مقصد کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر اپوزیشن اور ناقدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ادھر بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر سے منسوب اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق زیرِ بحث ٹرسٹ میں مودی حکومت کے نامزد افراد اور آر ایس ایس کے نمائندے بھی شامل ہیں،
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف مذہبی عطیات کے انتظام بلکہ حکومتی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔مودی عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونک کر اقتدار بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے
