تاریخ کے صفحات جب بھی انسانیت کو بڑی تباہی سے بچانے والے مدبرین کا تذکرہ کریں گے، تو اس میں پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور سپہ سالار، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ حالیہ مہینوں میں دنیا جس تیزی سے ایک ہولناک جوہری تصادم اور تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی، اسے روکنے میں پاکستان کی عسکری قیادت نے جو خاموش لیکن انتہائی اثر انگیز سفارتی اور سٹریٹجک کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ صدی کا سب سے بڑا امن معجزہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سنگین کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور بحری ناکہ بندیوں نے عالمی معیشت اور امنِ عالم کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ایسے نازک موڑ پر، جب عالمی طاقتیں مکالمے کے تمام دروازے بند کر چکی تھیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی غیر معمولی بصیرت، فہم و فراست اور "شراکتِ امن” (Peace Diplomacy) کے فلسفے کے تحت دنیا کو ایک ناگزیر تباہی سے بچا لیا۔
پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بلاکس کی سیاست میں تقسیم ہو کر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے محاذ پر امریکہ اور ایران کا براہِ راست تصادم سر پر تھا، تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور تجارتی راستے مسدود ہو رہے تھے۔ عسکری ماہرین کا متفقہ خیال تھا کہ اگر ان دونوں طاقتوں کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی، تو یہ محض علاقائی جنگ نہیں رہے گی، بلکہ اس میں جوہری طاقتیں شامل ہو جائیں گی، جو تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔
اس بھیانک منظرنامے میں دنیا کو ایک ایسے معتبر اور غیر جانبدار ثالث کی ضرورت تھی جس کی بات تہران میں بھی سنی جائے اور واشنگٹن میں بھی وزن رکھتی ہو۔ یہ تاریخی اور کٹھن ذمہ داری پاکستان کے نڈر سپہ سالار نے اپنے کندھوں پر اٹھائی۔
تہران سے واشنگٹن: فیلڈ مارشل کی بیک چینل ڈپلومیسی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت اور مخلصانہ سوچ انہیں دنیا بھر کے ملٹری لیڈرز سے ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے رواں سال کے دوران ایک انتہائی مربوط اور پیچیدہ سفارتی مشن کا آغاز کیا:
ایران کے ساتھ سٹریٹجک ڈائیلاگ: فیلڈ مارشل نے تہران کا اہم دورہ کیا اور ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے تناؤ میں کمی (De-escalation) کے متبادل طریقوں پر آمادگی ظاہر کی۔
واشنگٹن اور عالمی طاقتوں سے رابطہ: دوسری طرف، امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے مضبوط عسکری و سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے واشنگٹن کو باور کروایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
پاکستان بطور قابلِ قبول ثالث: فیلڈ مارشل کی کامیاب حکمتِ عملی نے پاکستان کو دونوں فریقین کے لیے ایک معتبر اور قابلِ قبول پل بنا دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک پسِ پردہ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوئے۔
عسکری ہیبت اور امن پسندی کا امتزاج
ایک حافظِ قرآن اور مدبر عسکری رہنما ہونے کے ناطے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت میں جہاں عزم و استقامت کی فولادی جھلک ہے، وہاں انسانیت کی بقا کا درد بھی شامل ہے۔ ان کی یہ سفارتی کامیابی محض لفاظی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈیٹرنس تھا جو انہوں نے مئی 2025ء کے پاک بھارت فضائی و میزائل تصادم کے دوران دنیا کو دکھایا تھا، جس شاندار عسکری کامیابی پر انہیں ملک کا اعلیٰ ترین عسکری رینک "فیلڈ مارشل ” عطا کیا گیا ۔دنیا جانتی ہے کہ جو قیادت اپنے وطن کا دفاع کرنا اور دشمن کو دندان شکن جواب دینا جانتی ہے، جب وہ امن کی بات کرتی ہے تو اس کی آواز میں وزن ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے ثابت کیا کہ پاکستان صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ وہ خطے اور دنیا میں "استحکام کا برآمد کنندہ” (Exporter of Stability) ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروا کر دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لانا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے جس نے بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کے وقار کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹریٹجک سوچ، تحمل اور مذاکراتی مہارت نے ثابت کر دیا کہ حقیقی لیڈرشپ وہ نہیں جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کو انسانیت کے تحفظ اور امن کے لیے استعمال کرے۔
آج اگر دنیا ایک ہولناک تباہی اور معاشی بربادی سے محفوظ ہے، تو اس کا ایک بڑا کریڈٹ پاکستان کی اس مخلصانہ اور مدبرانہ عسکری سفارت کاری کو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اور کالم نگار اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کو صدی کی سب سے بڑی جنگ سے بچانے والی یہ عظیم شخصیت بلاشبہ امن کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی اعزازات کی مستحق ہے۔ سپہ سالار کی اس بصیرت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
