Baaghi TV


آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور عمان میں پیش رفت، کنٹرول کا معاملہ بدستور متنازع

iran

‎ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ کے کنٹرول کے معاملے پر اب بھی کئی اہم سوالات برقرار ہیں۔
‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کے روز ایرانی اور عمانی وفود کے درمیان متعدد دور کے مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران بحری ٹریفک کو منظم کرنے، دونوں ممالک کے خودمختار حقوق کا احترام یقینی بنانے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔
‎اگرچہ ایرانی حکام نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجوزہ انتظام صرف ایران اور عمان کے درمیان ہوگا یا اس میں خلیجی خطے کے دیگر ساحلی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی نئے انتظامی نظام میں صرف ایران اور عمان شریک ہوتے ہیں تو خلیجی ریاستیں اور امریکا اس پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔
‎اصل تنازع اس بات پر مرکوز ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی کا اختیار کس کے پاس ہوگا۔ امریکا اور متعدد علاقائی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کو اس آبی گزرگاہ پر یکطرفہ کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حیثیت کے تحت اس علاقے میں قانونی حقوق حاصل ہیں۔
‎آبنائے ہرمز سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts