پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ نے صوبے میں متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری کرتے ہوئے متعدد اضلاع میں متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 31 جولائی سے 2 اگست کے دوران سندھ کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے تمام ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور ریسکیو سروسز کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
الرٹ کے مطابق کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ سمیت کئی بڑے شہروں میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ، خیرپور، جیکب آباد، شکارپور، گھوٹکی، کشمور، قمبر شہدادکوٹ، ٹھٹہ، جامشورو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار اور شہید بینظیر آباد کے لیے بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ متعدد اضلاع کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نکاسی آب کے پمپس، بھاری مشینری اور دیگر ضروری آلات پہلے ہی تیار رکھے گئے ہیں تاکہ بارش کے دوران فوری کارروائی کی جا سکے۔
حکام کے مطابق میرپورخاص، نواب شاہ، سکھر اور حیدرآباد میں اربن فلڈنگ کا زیادہ خطرہ ہے، جبکہ ٹھٹہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، مٹھی اور عمرکوٹ میں بھی مقامی سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے سندھ نے بتایا کہ ادارے کا کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال کر دیا گیا ہے اور موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جائیں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں اور زیر آب سڑکوں سے دور رہیں، بجلی کی کھلی تاروں سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔
سندھ میں اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری، کئی اضلاع میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خدشہ
