لاہور: اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان کے گھر پر پولیس نفری پہنچنے اور مبینہ چھاپے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ایس پی کینٹ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے سی سی پی او لاہور نے دو سینئر افسران کو انکوائری افسر مقرر کر دیا ہے۔ دونوں افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے شواہد کا جائزہ لیا، جبکہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد اپنی رپورٹ سی سی پی او کو پیش کریں گے۔اس سے قبل غلط فہمی کی بنیاد پر اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس نفری پہنچنے کے معاملے پر ایس ایچ او سمیت 11 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اٹارنی جنرل کے ڈرائیور عرفان کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں صرف ملازمین موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے گھر کے باہر رکھے گئے گملے توڑ دیے اور جاتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔عرفان کے مطابق اطلاع ملنے پر اٹارنی جنرل منصور اعوان میٹنگ سے واپس گھر پہنچے، جس کے بعد پولیس اہلکار سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کے بعد ڈی وی آر واپس کر گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
