تہران: ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، جبکہ متعدد بچے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جزیرہ قشم میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جہاں حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا کر لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ایک بچے کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق امریکی میزائل حملے کے بعد جزیرہ قشم میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہوگئی تھی، تاہم بعد ازاں بجلی بحال کر دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حملے صرف جزیرہ قشم تک محدود نہیں رہے بلکہ اہواز، آبادان، شادگان، اروندکنار، کازرون، کیش جزیرہ، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے نواحی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صوبہ خوزستان کے شہر اہواز میں کم از کم سات مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ بوشہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں فوجی کارروائی کی تصدیق کی ہے، تاہم حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔ صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے آج جارح کو سزا دی جائے گی،یہ بیان امریکاکی جانب سے گزشتہ شب ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
