چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو موجودہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کے حقِ رائے دہی کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے اور انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی بھی قسم کی مداخلت یا انتخابی بے ضابطگی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سیاسی نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر تنقید کرتے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق عوام کو الزامات کے بجائے عملی کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اگر لاہور میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہیں تو یہ خوش آئند بات ہے، تاہم آزاد کشمیر میں عوام کو ایسی ترقی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کے عوام کو بہتر سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے، جنہیں نظر انداز کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے مہاجرین کی نمائندگی کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے منتخب نمائندوں کی مؤثر نمائندگی ہونی چاہیے تاکہ ان کے مسائل اور حقوق بہتر انداز میں سامنے آسکیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بیرونی دباؤ یا سیاسی مفاد کے بجائے کشمیری عوام کی رائے کو مقدم رکھا جانا چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو جمہوری اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔
آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی، بلاول بھٹو
