Baaghi TV

آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

احتجاج، اشتعال اور قومی ذمہ داری کا امتحان

احتجاج، اشتعال اور سیاسی قیادت کی خاموشی قومی بحران اور ذمہ داری سے گریز

جب سیاست مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی چنے ریاست، احتجاج اور قیادت کا امتحان

تجزیہ شہزاد قریشی

تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشروں کو بحرانوں، انتشار اور داخلی کشمکش کا سامنا ہوتا ہے تو ذمہ دار قیادتیں آگ پر تیل نہیں بلکہ پانی ڈالتی ہیں۔ قومی زندگی کے نازک اور حساس لمحات میں سیاسی و مذہبی قوتوں کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے تدبر، حکمت اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔ بدقسمتی سے آج آزاد کشمیر سے لے کر لندن کی سڑکوں تک جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں وہ قومی بصیرت اور اجتماعی دانش کم دکھائی دے رہی ہے جس کی ایک ذمہ دار قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔

اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، احتجاج بھی ایک بنیادی سیاسی حق ہے، لیکن جب احتجاج کی فضا الزام تراشی، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف غیر مہذب اور غیر ذمہ دارانہ زبان کے استعمال میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے جس متوازن اور مدبرانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے، وہ نمایاں نظر نہیں آتا۔ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ تمام جماعتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشیدگی میں کمی، برداشت کے فروغ اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتیں۔ لیکن عملی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکثر سیاسی قوتیں قومی مفاد کے بجائے اپنے سیاسی بیانیے، انتخابی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دے رہی ہیں۔

دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی قیادتیں بحران کے لمحوں میں ریاستی استحکام کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو قانون کے دائرے میں رہنے، اداروں کے احترام اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض حلقوں کی جانب سے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر قومی اداروں کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو نہ صرف سیاسی شائستگی کے منافی ہے بلکہ قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر ادارہ تنقید سے بالاتر نہیں، لیکن تعمیری تنقید اور کردار کشی میں واضح فرق موجود ہے۔ جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے نفرت، تقسیم اور تصادم کو فروغ دینا بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اور مذہبی قیادتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ انہیں جذباتی نعروں کے بجائے مفاہمت، برداشت اور قومی وحدت کا پیغام دینا چاہیے۔ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا اور نوجوان نسل کو مثبت سیاسی شعور دینا ہی ایک مہذب اور مستحکم معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

تاریخ ہمیشہ ان قوتوں کو عزت اور احترام دیتی ہے جو بحران کے لمحوں میں قوم کو جوڑنے کا کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ نفرت، اشتعال اور تقسیم کی سیاست وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر قوموں کے مستقبل کو کمزور کر دیتی ہے۔ آج کا سوال یہی ہے کہ کیا ہماری سیاسی اور مذہبی قیادتیں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آگ بجھانے والوں میں شمار ہوں گی یا پھر تماشائی بن کر حالات کی شدت میں اضافہ کرتی رہیں گی؟ وقت اس سوال کا جواب ضرور دے گا۔

More posts