Baaghi TV

نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم،تجزیہ:شہزاد قریشی

نئے صوبے مضبوط وفاق اور بہتر حکمرانی کی جانب ایک قدم

ریاستیں رقبے سے نہیں، مؤثر حکمرانی سے مضبوط ہوتی ہیں

بدلتے حالات نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں

پاکستان کو مضبوط وفاق کے لیے مضبوط انتظامی اکائیوں کی ضرورت ہے

تجزیہ شہزاد قریشی

دنیا کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کی مضبوطی کا تعلق صرف ان کے رقبے یا آبادی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کس حد تک مؤثر، منصفانہ اور قریب ترین سطح پر حکمرانی فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی انتظامی اکائیوں میں اضافہ کیا تاکہ عوامی مسائل کا حل زیادہ تیزی اور بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد یہ موضوع دوبارہ قومی مکالمے کا حصہ بن گیا ہے۔ اس بحث کو جذبات یا سیاسی مفادات کے بجائے قومی ضرورت، انتظامی بہتری اور عوامی فلاح کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں مسلسل اضافہ، شہری آبادی کے پھیلاؤ، ترقیاتی ضروریات اور انتظامی پیچیدگیوں نے موجودہ صوبائی ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ایک ہی صوبے کے بعض دور دراز علاقوں کے عوام آج بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچتی۔ جب فیصلہ سازی عوام کے قریب آتی ہے تو مسائل کے حل کی رفتار بھی بڑھتی ہے اور ترقی کے ثمرات زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم ہوتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک اس کی عملی مثال ہیں۔ وہاں انتظامی وحدتوں میں اضافے نے قومی یکجہتی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وفاقی نظام کو مزید مستحکم کیا۔ مقامی شناختوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئینی اور انتظامی دائرے میں جگہ دینا دراصل قومی وحدت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتا ہے، کیونکہ محرومیوں کا احساس کم ہوتا ہے اور عوام خود کو ریاستی نظام کا زیادہ مؤثر حصہ محسوس کرتے ہیں۔

پاکستان میں بھی اگر نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضوں، قومی اتفاقِ رائے اور انتظامی ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے تو یہ وفاق کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے وسائل کی بہتر تقسیم، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی، عوامی نمائندگی میں اضافہ اور مقامی مسائل کے فوری حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ صوبوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام عوام کی ضروریات کو پوری طرح پورا کر رہا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اصلاحات پر سنجیدہ غور و فکر وقت کی ضرورت ہے۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے نظام کو بہتر بنانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ نئے صوبوں کی بحث بھی اسی قومی ارتقا اور بہتر حکمرانی کی تلاش کا ایک اہم باب ہے، جسے تعصب سے نہیں بلکہ تدبر، بصیرت اور قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

More posts