کینسر پر تحقیق کرنے والی ایک محقق نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کے دوران پرفیوم براہِ راست گردن پر چھڑکنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں، کیونکہ بعض خوشبو دار کیمیائی اجزا سے طویل عرصے تک مسلسل رابطہ صحت کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کے شعبۂ پیتھالوجی سے وابستہ پی ایچ ڈی محقق اینا کینیڈاس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بتایا کہ پرفیوم میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں کیمیائی مرکبات شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی اجزا کی الگ الگ تفصیل درج کرنے کے بجائے انہیں صرف "Fragrance” یا خوشبو کے عمومی نام سے ظاہر کیا جاتا ہے، جس سے صارفین کو اصل کیمیائی ساخت کا مکمل علم نہیں ہو پاتا۔
انہوں نے فرنٹیئرز اِن ٹاکسیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کاسمیٹکس اور پرفیوم میں استعمال ہونے والے بعض اجزا، جن میں فتھیلیٹس، فارمل ڈی ہائیڈ اور وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز (VOCs) شامل ہیں، اینڈوکرائن ڈسرپٹنگ کیمیکلز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ مادے جسم کے ہارمونز کے قدرتی نظام میں مداخلت کر سکتے ہیں یا ہارمونز جیسا اثر پیدا کر سکتے ہیں، جس سے اینڈوکرائن نظام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس بات کے حتمی سائنسی شواہد موجود نہیں کہ گردن پر پرفیوم لگانے سے براہِ راست کینسر ہوتا ہے۔ اصل تشویش ان کیمیائی مادوں سے مسلسل اور طویل مدتی رابطے کے ممکنہ اثرات سے متعلق ہے، جو وقت کے ساتھ صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق ان کا مقصد لوگوں کو پرفیوم کے استعمال سے خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں غیر ضروری کیمیائی اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معمولی مقدار میں بھی بعض کیمیائی مادے کئی دہائیوں تک روزانہ استعمال کیے جائیں تو ان کے جسم میں جمع ہونے کے امکانات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرینِ جلد کے مطابق گردن کی جلد جسم کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے، اس لیے وہاں بعض اجزا نسبتاً زیادہ جذب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح گرم شاور لینے کے فوراً بعد پرفیوم لگانے سے بھی جلد کے مسام کھلے ہونے کی وجہ سے جذب ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین احتیاطی تدابیر کے طور پر مشورہ دیتے ہیں کہ پرفیوم کو براہِ راست گردن کے بجائے کپڑوں پر اسپرے کیا جائے یا اگر جلد پر لگانا ضروری ہو تو کلائی جیسے کم حساس حصے کا انتخاب کیا جائے۔ اس کے علاوہ قدرتی یا آرگینک اجزا پر مشتمل پرفیوم استعمال کرنے اور نہانے کے فوراً بعد پرفیوم لگانے سے گریز کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
گردن پر پرفیوم لگانا کتنا محفوظ؟ ماہرین نے اہم احتیاطی مشورے دے دیے
