اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ وزیرِ اعظم آزاد کشمیر نے کتنے فیصلے خود کیے اور آزاد کشمیر کی حکومت حقیقت میں کتنی خودمختار تھی۔
اپنے بیان میں سحر کامران نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر مرحلہ وار انتخابات کرائے گئے، تاہم الیکشن کمیشن انتخابی انتظامات اور شفافیت کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ بروقت نہیں پہنچ سکا جبکہ بعض علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات بھی مؤثر ثابت نہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سیاسی تدبر، جمہوری رویے اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق جہاں پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں تھی وہاں اقتدار کے حصول کی کوشش کرنے کے بجائے پاکستان کی سالمیت، استحکام اور قومی یکجہتی کو ترجیح دی گئی، جبکہ عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا مگر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
سحر کامران نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو اصل خطرہ اپوزیشن سے نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کے اندر موجود اختلافات سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے وزرا روزانہ مختلف بیانات دے رہے ہیں، جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ مرحلہ وار انتخابات کے نتائج کا فائدہ جیتنے والی جماعت کو ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی یہ عادت بن چکی ہے کہ جہاں اس کا ووٹ بینک موجود نہ ہو وہاں بھی طاقت کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور عوام کے اعتماد کے مطابق بنایا جائے تاکہ جمہوری نظام مزید مضبوط ہو سکے۔
سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ پنجاب کا ٹارگٹ اب میاں شہباز شریف کی حکومت ہے۔ وہ ان کے پاؤں کے نیچے سے کارپٹ کھینچ رہے ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف آج بھی بار بار صدر زرداری اور پیپلز پارٹی سے حمایت مانگتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بغیر یہ پارلیمنٹ میں کورم بھی پورا نہیں کر سکتے۔ اب تو ان کے اپنے وزرا بھی الگ الگ نیا گیت گا رہے ہیں، یہ لوگ ذاتی مفادات اور تعصب سے بالاتر ہو کر سوچ ہی نہیں سکتے۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں 2008 کے الیکشن کے بعد صدر زرداری نے وزارتیں دیں اور کابینہ میں شامل کیا، لیکن یہ کابینہ چھوڑ کر کالا کوٹ پہن کر پیپلز پارٹی کے خلاف عدالت چلے گئے تھے۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ جون 2015 میں صدر زرداری کے ایک بیان کے بعد اس وقت کے وزیرِ اعظم نے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔نفرت اور تعصب نواز لیگ کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کے آپس میں بھی جھگڑے ہیں، اور دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی بغض ہے۔
