واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو امریکہ کے ساتھ "اچھا معاہدہ” کرنے کے لیے "آخری موقع” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ مزید سخت اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ایران نے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بات چیت صرف عمان کے ذریعے محفوظ سمندری راستے کے قیام سے متعلق ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ متعدد خلیجی ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا اور ایران کو ایک آخری موقع دینے کی درخواست کی۔ ان کے مطابق، "بہت سے ممالک نے فون کیا، سب چاہتے تھے کہ ایران کو ایک آخری موقع دیا جائے، اور یہی اس کا آخری موقع ہے۔”صحافیوں کے سوال پر کہ ماضی میں بھی حملے مؤخر کیے جا چکے ہیں تو اس بار کیا فرق ہے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو "ہر ممکن آخری موقع” دینا چاہتے ہیں، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو سخت کارروائی خارج از امکان نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر کام ہوگا، جس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
یہ دونوں نکات جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا بھی حصہ تھے۔
تاہم اس سے قبل پیر کی صبح صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت "ناقابلِ یقین حد تک دوغلی” ہے۔انہوں نے لکھا کہ ایران ایک طرف ملاقاتوں کی درخواست کرتا ہے اور مزید مذاکرات کا عندیہ دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور وہ صرف عمان سے رابطے میں ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ ان کے بقول یہ آبی گزرگاہ پہلے ہی امریکی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کوئی معاہدہ یا "مکمل ہتھیار ڈالنے” کی صورتحال سامنے نہیں آتی۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔”
ایران نے امریکی صدر کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی بات چیت صرف عمان کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے ایک محفوظ اور عارضی راستہ قائم کرنا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے مشرقِ وسطیٰ پروگرام کے سینئر ایسوسی ایٹ پال سیلم نے کہا کہ ایرانی نظام طویل مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے عوامی مشکلات کی زیادہ پروا نہیں ہوتی۔ان کے مطابق، اس کے برعکس امریکہ جیسے جمہوری ملک میں عوام پر پڑنے والے معاشی اثرات حکومت کے لیے سیاسی قیمت کا باعث بنتے ہیں، اور صدر ٹرمپ کو بھی اس جنگ کے سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فی گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.09 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً 34 فیصد زیادہ ہے۔اسی دوران ایک حالیہ سروے کے مطابق 67 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں جانے کے فیصلے سے امریکہ کو نقصان پہنچا، جبکہ 65 فیصد نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے ملکی معاشی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔
ادھر ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ملک کی قدرتی گیس کی پیداوار میں روزانہ تقریباً 230 ملین مکعب میٹر کی کمی آئی ہے۔ ایرانی حکام نے عوام سے توانائی کے کم استعمال کی اپیل کی ہے اور ممکنہ بجلی کی بندش سے بھی خبردار کیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم مذاکرات کے مستقبل اور خطے میں امن و استحکام کا انحصار آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔
