چلاس میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں پانی کے تیز ریلوں نے زرعی زمینوں، کھڑی فصلوں اور املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر متعدد افراد جان کی بازی بھی ہار گئے، جبکہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
سیلابی صورتحال کے باعث بابوسر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ حکام نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق 29 جولائی سے جاری بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 6 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بارشوں اور سیلاب سے 65 گھروں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے متعلق مختلف واقعات ایبٹ آباد، پشاور، سوات، بونیر، خیبر، چترال اور دیگر اضلاع میں پیش آئے، جہاں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ افراد کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔
ادھر فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور نے بتایا ہے کہ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور گڈو بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ متعلقہ اداروں نے دریا کے کنارے آباد آبادیوں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
