Baaghi TV

‎ایران، عمان معاہدے سے آبنائے ہرمز پر ایران کا کردار مضبوط ہونے کا دعویٰ

‎ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی میں ایران کا کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
‎رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے نیا فریم ورک زیر غور ہے، جس کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے تجارتی جہازوں کی نگرانی میں ایران کا کردار بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ عمان بھی اس نظام کا اہم حصہ رہے گا۔
‎غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت بحری جہازوں پر سروس فیس عائد کیے جانے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے لیے بھی ایک طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری دستاویز یا مشترکہ اعلامیے کا اجرا نہیں ہوا۔
‎رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مجوزہ انتظام کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے لیے نیا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ متعارف کرایا جا سکتا ہے، جسے خطے کے بعض ممالک اور بین الاقوامی فریقین کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی ترسیل اور خطے کی جغرافیائی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی خام تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

More posts