امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اہم پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سفارتی عمل کا پہلا مرحلہ آبی گزرگاہ کی بحالی ہے، جبکہ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا موجودہ مذاکرات کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا تو اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی تاکہ دیرپا اور مؤثر معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایران مستقبل میں اپنے وعدوں یا معاہدے سے پیچھے ہٹا تو امریکا سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اپنے مفادات اور خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت نے نہایت شائستگی سے کہا کہ "براہِ کرم، کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟” جس پر انہوں نے جواب دیا کہ "ہاں، ہم بات کر سکتے ہیں، آئیے اب اس معاملے کو مکمل کرتے ہیں اور منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے جاری ہیں، جبکہ علاقائی ممالک بھی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو نہ صرف آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت معمول پر آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
ایران سے مذاکرات مثبت سمت میں، آبی گزرگاہ کی بحالی پہلا مرحلہ ہے، ٹرمپ
