کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرحوم کے والد نے بیٹے کی قبر کشائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق میر رضا علی کے والد جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دائر کریں گے، جو معروف وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے جمع کرائی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس سرجن کے بیان کے بعد مزید حقائق سامنے لانے کی غرض سے قبر کشائی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی موت خودکشی کا نتیجہ تھی یا انہیں قتل کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قبر کشائی اور مزید فرانزک شواہد کی روشنی میں کیس کے اہم حقائق سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
2 روز قبل میر رضا علی خان کے والد نے میڈیکل رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، میر رضا علی کے والد حسین رضا کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو قتل کیا گیا جبکہ اس کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے،بیٹے کے چہرے، جسم اور ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کو جلایا گیا، اسے پیچھے سے گولی ماری گئی، میڈیکل رپورٹ صرف گولی لگنے کی کیوں آئی ہے؟ میڈیکل رپورٹ میں تشدد کا کیوں نہیں بتایا گیا
