سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے۔
عمران خان جو 2022 میں قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیے گئے تھے، اس کے ایک سال بعد انہیں بدعنوانی اور ریاستی راز افشا کرنے سمیت مختلف مقدمات میں سزا کے بعد قید کر دیا گیا عمران خان اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے۔
قاسم خان اور سلیمان خان نے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ہمارے پاس ان کی کوئی تازہ معلومات نہیں کیونکہ گزشتہ سات ماہ سے ان کے اہلِ خانہ، ڈاکٹروں اور وکلا کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جب بھی وہ میڈیا سے بات کرتے ہیں، پاکستانی حکام ان کے لیے والد سے ملاقات مزید مشکل بنا دیتے ہیں، ویزوں میں تاخیر کی جاتی ہے یا دیگر انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔
قاسم نے کہا کہ ہم پاکستان جانا چاہتے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی، ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں ویزا نہ دیا جائےان کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کی تجدید نہیں کی گئی، ویزے کے بغیر ہم پاکستان نہیں جا سکتےہمارے ویزا کی منظوری میں کوئی منطقی رکاوٹ نہیں، مگر فیصلہ کرنے والے لوگوں نے جان بوجھ کر معاملہ ایسا بنا دیا ہے کہ ہمیں ویزا نہ ملے ہمارا والد کیساتھ آخری مرتبہ فون پر رابطہ مارچ میں ہوا تھافون پر کم از کم دو ہفتوں میں بات کرانی چاہئے۔
قاسم اور سلیمان نے کہا کہ والد کی کرپشن کے حوالے سننا انتہائی مایوس کن بات ہے ہم نے بچپن سے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ بدعنوانی کتنی زہریلی چیز ہوتی ہے اور یہ کسی بھی ملک کو کس طرح تباہ کر سکتی ہےپاکستان میں بھی انہوں نے یہی دیکھا جب وہ انگلینڈ آئے تو انہیں یہ موقع ملا کہ وہ یہاں کے نظام اور فرق کو دیکھ سکیں اور سمجھ سکیں کہ پاکستان کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے اسی سوچ کے تحت وہ واپس پاکستان گئے اور سیاست میں قدم رکھاجب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے، وہ مسلسل بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرتے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نہ صرف انہیں بدعنوانی کے خلاف بات کرتے دیکھا بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے، اگر وہ بند دروازوں کے پیچھے اپنے 5 اور 7 سال کے بچوں کو بھی بدعنوانی کے نقصانات کے بارے میں سمجھاتے رہے ہیں، تو آج انہی پر بدعنوانی کے الزامات لگتے دیکھنا انتہائی مایوس کن ہے۔
سی این این کے ابق کہ حکومت پاکستان نے عمران خان کے بیٹوں کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ عمران خان گزشتہ سات ماہ سے قید تنہائی میں ہیں یا انہیں اپنے اہلِ خانہ ، وکلاء اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی،یہ الزام جیل کے ریکارڈ سے برعکس اور ایسے وقت میں بین الاقوامی تنازع کھڑا کرنے کی کوشش ہے، عمران خان کو بار بار اور خاطر خواہ رسائی فراہم کی جاتی رہی ہے عمران خان اور ان کی اہلیہ کی 4 اگست کو بھی ملاقات کرائی گئی وزارت اطلاعات کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کے پاس نائیکوپ کارڈ ہیں وہ پاکستان آ سکتے ہیں، پاکستان آنے کیلئے انہیں ویزے کی ضرورت نہیں۔
